سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں راہل گاندھی نے کہا، ’’ذرا سوچیے، جس کی ناکامی کی وجہ سے اتنے پیپر لیک ہوئے، جس کے دور میں 20 بچوں نے اپنی جان دے دی، جس نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل دیا، وہی آج متاثرہ طلبا اور ان کی آواز اٹھانے والوں کو ’دہشت گرد‘ بتا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نیا طرز عمل نہیں بلکہ حکومت پہلے بھی اختلافی آوازوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کو پہلے ’آندولن جیوی‘ اور ’پرجیوی‘ کہا گیا، سوال پوچھنے والوں کو ’ملک دشمن‘ قرار دیا گیا اور اب نوجوانوں کو ’دہشت گرد‘ کہا جا رہا ہے۔