بیشتر ایشیائی شیئر بازاروں میں گراوٹ، کوسپی اور نکیئی میں بکھراؤ، ہانگ کانگ اور چین میں حالات بہتر

برینٹ کروڈ فیوچر 0.85 فیصد بڑھ کر 72.6 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ ایک فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 70.01 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔



<div class="پیراگراف">
<p>شیئر مارکیٹ</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کا نیا سلسلہ رک جانے کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان عبوری امن معاہدہ پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ایشیائی شیئر بازاروں میں بھی زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

گرچہ آبنائے ہرمز اب بھی کھلی ہوئی ہے، جس کے باعث تیل کی سپلائی جاری ہے، لیکن بازاروں میں غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔ ابتدائی کاروبار میں ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک کے فیوچر میں 0.4 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا، لیکن جنوبی کوریا کا کوسپی تقریباً 2 فیصد گر گیا اور جاپان کا نکیئی بھی 1 فیصد نیچے آ گیا۔ دوسری جانب ہانگ کانگ اور چین کے شیئر بازاروں میں تیزی دیکھی گئی۔

دوسری طرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور جمعہ کے روز عالمی سطح پر بھاری گراوٹ کے باوجود ہندوستانی بازار کی ساخت مضبوط بنی ہوئی ہے۔ ہندوستانی شیئر بازار میں گیپ اَپ کھلنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ نفٹی آج 34 پوائنٹس اوپر کھل سکتا ہے۔ اسی طرح بینک نفٹی میں بھی تیزی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ-ایران امن معاہدہ کے مستقبل سے متعلق خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے۔ برینٹ کروڈ فیوچر 0.85 فیصد بڑھ کر 72.6 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ ایک فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 70.01 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔ اگرچہ آج تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، لیکن جنگ کے دوران جتنی تیزی تھی، وہ اب ختم ہو چکی ہے۔ اب تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی سطح کے قریب آ چکی ہیں، تاہم کشیدگی کے باعث صورتحال اب بھی غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔

شیئر بازاروں پر فیڈرل ریزرو بینک کے فیصلے کا خوف بھی منڈلا رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ فیڈرل ریزرو اپنی آئندہ میٹنگ میں شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کا اثر کمپنیوں کی آمدنی پر پڑے گا اور شیئر بازاروں میں گراوٹ آ سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کی یہ تشویش بھی بازاروں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق کمپنیوں کی ویلیویشن کئی برسوں کی تیزی کے بعد بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مائیکرون کی مضبوط آمدنی کے تخمینے اور گزشتہ ہفتہ ایپل کی جانب سے قیمتوں میں کیے گئے اضافے نے بھی بازار کے لیے متضاد چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *