صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ مجموعی طور پر 19 زخمی بچوں کو اسپتال پہنچایا گیا تھا، جن میں سے 14 دم توڑ گئے جبکہ باقی بچوں کو طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ واقعے کے بعد قریبی لاہور جنرل اسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی اور ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا تاکہ زخمی بچوں کا بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔
پولیس اور امدادی اداروں کے مطابق جس عمارت میں ٹیوشن سینٹر قائم تھا، اس کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا جبکہ نچلی منزل پر معمول کے مطابق کلاسیں ہو رہی تھیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اسی دوران اچانک چھت منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں کمسن بچے ملبے تلے دب گئے۔ امدادی اہلکاروں نے کئی گھنٹے مسلسل کام کرتے ہوئے شام تک ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا۔