ٹرمپ کو امریکی سپریم کورٹ سے جھٹکا، پیدائش پر مبنی شہریت کا حق محدود کرنے والا حکم کالعدم قرار

یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے ہی دن، 20 جنوری 2025 کو }امریکی شہریت کے مفہوم اور قدر کے تحفظ‘ کے عنوان سے ایک صدارتی حکم جاری کیا تھا۔ اس حکم کے مطابق امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد یا طالب علم، ملازمت، سیاحت اور دیگر عارضی ویزوں پر رہنے والے غیر ملکیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار طور پر امریکی شہریت نہ دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

اس حکم کے اجرا کے فوراً بعد شہری حقوق کی تنظیموں، تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور متعدد متاثرہ خاندانوں نے عدالتوں سے رجوع کیا۔ مختلف وفاقی عدالتوں نے اس حکم پر عمل درآمد روک دیا تھا، جس کے باعث یہ کبھی نافذ نہیں ہو سکا۔ بعد ازاں معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا، جہاں عدالت عظمیٰ نے بھی نچلی عدالتوں کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے صدارتی حکم کو آئین سے متصادم قرار دیا۔

]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *