قابل ذکر ہے کہ راجستھان ہائی کورٹ نے رواں سال مئی میں دیے گئے اپنے فیصلے میں شریک ملزمان کو بری کرتے ہوئے آسارام کو اجتماعی عصمت دری اور ’پاکسو‘ ایکٹ کی کچھ دفعات سے بری کر دی تھا۔ لیکن عصمت دری کے معاملے میں جرم ثابت ہونے کے لیے پختہ ثبوت ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے نچلی عدالت سے ملی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔