رام مندر نذرانہ معاملہ: سپریم کورٹ کا جلد سماعت سے انکار

عرضی کے مطابق عدالت یوپی حکومت اور ٹرسٹ کو ہدایت دے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک تمام ریکارڈ محفوظ رکھے جائیں، جیسے بینک کھاتے، عطیات کا رجسٹر، آڈٹ رپورٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور کمپیوٹر ڈیٹا۔



<div class="پیراگراف">
<p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

اتر پردیش کے ایودھیا میں شری رام مندر کے چڑھاوے میں مبینہ بے ضابطگی اور غبن کی تحقیقات کو لے کر سپریم کورٹ میں داخل مفاد عامہ کی عرضی پر جلد سماعت کا مطالبہ کیا گیا۔ اس پر سپریم کورٹ میں جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے جلد سماعت سے انکار کرتے ہوئے پیر کو پھر سے تعطیلاتی بنچ کے سامنے معاملہ پیش کرنے کو کہا ہے۔ عرضی گزار نے اپنی عرضی کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جلد سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں فوری حکم جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ ’’پیر کو ایک بار پھر جلد سماعت کا مطالبہ کریں۔‘‘

واضح رہے کہ رام مندر چڑھاوا سے منسلک گھوٹالہ معاملے میں جانچ کو لے کر سپریم کوٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی گئی ہے۔ اس معاملے میں سب سے پہلے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر سی بی کی ایس آئی ٹی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اجے کمار اور دنیش کمار یادو نامی 2 وکلاء کی طرف سے داخل عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے پیسوں میں گڑبڑی کے الزامات کی ایف آئی آر درج کی جائے۔ سی بی آئی کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے کر غیر جانبدارانہ اور وقت پر مکمل ہونے والی جانچ کرائی جائے، جس سے یہ پتہ چل سکے کہ عطیات کے پیسوں میں کوئی گڑبڑی، غبن یا بدعنوانی ہوئی ہے یا نہیں۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کے ذریعہ رام جنم بھومی ٹرسٹ اور یوپی حکومت کو ہدایت دی جانی چاہیے کہ وہ ٹرسٹ کے فنڈ اور جائیدادوں کی نگرانی کے لیے مضبوط آڈٹ اور تفتیشی نظام بنائیں، جس سے مستقبل میں ایسی شکایتیں نہ ہوں۔ عرضی کے مطابق عدالت یوپی حکومت اور ٹرسٹ کو ہدایت دے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک تمام ریکارڈ محفوظ رکھے جائیں، جیسے بینک کھاتے، عطیات کا رجسٹر، آڈٹ رپورٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور کمپیوٹر ڈیٹا۔ اس کے ساتھ ہی کسی بھی ریکارڈ یا ثبوت کو ضائع کرنے یا اس میں چھیڑ چھاڑ کرنے پر روک لگائی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *