’کیا مودی چین کو لال آنکھ دکھا پائیں گے؟‘ اروناچل میں زمین قبضہ کیے جانے کی خبر پر کانگریس کا سخت رد عمل

کانگریس نے سوال اٹھایا کہ کیا ’کمزور وزیر اعظم‘ نریندر مودی چین کے خلاف سخت موقف اختیار کر پائیں گے، یا ایک بار پھر ’کوئی اندر نہیں آیا‘ کہہ کر چین کو کلین چٹ دے دیں گے۔

انڈیا-چین، تصویر IANSانڈیا-چین، تصویر IANS

i

صارف
google_preferred_badge

ایک بار پھر اروناچل پردیش کی زمین پر چین کے ذریعہ مبینہ طور پر قبضہ کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس خبر پر کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’’کیا وزیر اعظم نریندر مودی چین کو لال آنکھ دکھا پائیں گے؟‘‘

کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک بیان جاری کیا ہے، اور ساتھ ہی ’نوبھارت ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ منسلک کی ہے، جس میں کچھ فکر انگیز دعوے کیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ چین سرحدی علاقوں میں ہندوستانی زمین پر قبضہ کر رہا ہے اور اس نے ہندوستانی حدود میں سڑکیں اور فوجی کیمپ بھی تعمیر کر لیے ہیں۔ پارٹی نے اس معاملے پر مودی حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کو سخت جواب دیا جانا چاہیے۔

کانگریس نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اروناچل پردیش کے سرحدی دیہات کے قبائلی برادری کے کچھ لوگوں نے زمین پر قبضہ معاملہ میں اپر سُبن سیری ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو اس سلسلے میں شکایت پیش کی ہے۔ پارٹی کے مطابق قبائلی برادری نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ چین نے ان زمینوں کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے جہاں مقامی لوگ مویشی چراتے تھے، شکار کرتے تھے اور کھیتی باڑی کرتے تھے۔ یہ ان کی آبائی زمین ہے۔

کانگریس نے مزید الزام لگایا کہ چین نے اسافیلا علاقے میں اوئنگ، پنیار (چوجارٹا علاقہ)، مارپن (مارنافے)، پوترانگ (جھیل) اور ٹیڈنگ ٹانگ سمیت متعدد مقامات پر دراندازی کی ہے۔ پارٹی نے اس معاملے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کو فوری طور پر کارروائی کرنی چاہیے اور چین کو مؤثر جواب دینا چاہیے۔ کانگریس نے اپنے بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ کیا ’کمزور وزیر اعظم‘ نریندر مودی چین کے خلاف سخت موقف اختیار کر پائیں گے، یا ایک بار پھر ’کوئی اندر نہیں آیا‘ کہہ کر چین کو کلین چٹ دے دیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *