کاؤنٹنگ روم میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے جو ریکارڈنگ دستیاب ہوئی ہے، اس میں بعض حیران کن پہلو سامنے آئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گنتی کے دوران نوٹوں کے بنڈل مقررہ ٹرے یا بینک کے کنٹینروں میں رکھنے کے بجائے بعض مخصوص افراد کے ہاتھوں میں دیے جا رہے تھے۔ یہ افراد کون تھے، انہیں یہ اختیار کس نے دیا اور ان کا کردار کیا تھا، اس بارے میں اب تک کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
تحقیقات میں ایک اور اہم خامی بھی سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گنتی میں شامل بعض ملازمین جان بوجھ کر ایسی جگہ بیٹھتے تھے جہاں ان کی پشت سی سی ٹی وی کیمروں کی طرف ہوتی تھی، جس کے باعث کیمرے پورے کمرے یا گنتی کے مکمل عمل کو واضح طور پر ریکارڈ نہیں کر پاتے تھے۔ نتیجتاً کیمروں کی نظر میں صرف ان کی پشت دکھائی دیتی تھی اور کارروائی کا بڑا حصہ اوجھل رہ جاتا تھا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ جب مندر کے ہر اہم مقام پر نصب کیمروں کی براہ راست نگرانی کے لیے مستقل کنٹرول روم موجود تھا تو پھر کیمروں کے سامنے پیدا ہونے والی ایسی رکاوٹوں کو بروقت کیوں نہیں دیکھا گیا؟ اگر کیمرے پورے عمل کو ریکارڈ نہیں کر رہے تھے تو اس کی اطلاع متعلقہ حکام یا ٹرسٹ کو کیوں نہیں دی گئی؟