انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہندوستان کا پاسپورٹ چین، سری لنکا یا کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو بھی جاری کیا جاتا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ کہنا کہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں، کس قانونی بنیاد پر کہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس سوال کا واضح اور دوٹوک جواب دینا چاہیے تاکہ عوام میں پائے جانے والے شبہات دور ہو سکیں۔
آسام سے تعلق رکھنے والے گورو گوگوئی نے قومی شہری رجسٹر کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آسام کے عوام نے قومی شہری رجسٹر سے متعلق پوری کارروائی اور اس کے اثرات کو قریب سے دیکھا ہے، اس لیے یہ خدشہ پیدا ہونا فطری ہے کہ کہیں حکومت کسی نئی انتظامی یا قانونی کارروائی کے ذریعے اسی نوعیت کا نظام دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہی۔