رو کھنہ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کی ٹرمپ کی پالیسی انتہائی تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ اس کا ہندوستان میں پٹرول اور گیس کی قیمتوں پر بھی برا اثر پڑا ہے۔
ہندوستانی نژاد امریکی رکن پارلیمنٹ رو کھنہ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کی انتہائی تباہ کن پالیسوں نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات کو گزشتہ 30 سالوں کی سب سے نچلی سطح پر دھکیل دیا ہے۔ ’یو ایس-انڈیا اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم لیڈرشپ سمٹ‘ میں بولتے ہوئے ڈیموکریٹک لیڈر نے کہا کہ ’’اگر کسی کو ان کی بات پر شک ہے تو وہ براہ راست ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اس بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔‘‘
رکن پارلیمنٹ رو کھنہ نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں ان کے چین دورہ کے دوران، وہاں ہندوستان کے سفیر نے ان سے کہا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد ختم ہو گیا ہے۔ رو کھنہ نے مزید کہا کہ ’’میں باتوں کو گھما پھرا کر کہنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ چیزیں جیسی ہیں، میں انہیں ویسا ہی بتاتا ہوں۔ امریکہ-ہندوستان تعلقات گزشتہ 30 سالوں میں اپنی سب سے نچلی سطح پر ہیں۔‘‘
رو کھنہ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کی ٹرمپ کی پالیسی انتہائی تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ اس کا ہندوستان میں پٹرول اور گیس کی قیمتوں پر بھی برا اثر پڑا ہے۔ اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں ہے تو وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے پوچھ لیجیے۔ کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’میں چین گیا تھا۔ وہاں ہندوستان کے سفیر نے مجھ سے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد ختم ہو گیا ہے۔ اگر ہم موجودہ صدر کے ذریعے پہنچائے گئے نقصان کے بارے میں سچ نہیں بولیں گے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم حقیقت سے آنکھیں موندے ہوئے ہیں۔‘‘
رو کھنہ نے ٹرمپ کی ایران اور کیوبا کو دھمکانے نیز گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی پالیسیوں کی بھی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب امریکہ اپنا اخلاقی نظریہ بھول چکا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی ’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘ جیسی ہو گئی ہے۔ وہ نہ صرف ایران بلکہ کیوبا کو بھی دھمکا رہا ہے اور گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی باتیں کر رہا ہے۔ اور ہم ایسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جیسے سب کچھ معمول کے مطابق ہو۔‘‘
ڈیموکریٹک رہنما نے کہا کہ ٹرمپ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے شعبے میں امریکہ کے آگے رہنے کی بات کرتے ہیں، لیکن دنیا کے ٹاپ اے آئی محققین میں سے 38 فیصد چینی نژاد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’صدر یہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کو باصلاحیت لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنا چاہیے، نہ کہ انہیں دور دھکیلنا چاہیے۔‘‘ رو کھنہ نے ٹرمپ کو ’غیر مؤثر‘ صدر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی آئندہ وسط مدتی انتخابات اور 2028 کے صدارتی انتخاب میں فیصلہ کن جیت حاصل کرے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
