یورپ کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی شدید گرمی کا سامنا، عوام کے لیے ’کولنگ اسٹیشن‘ کا خصوصی انتظام

امریکہ، کناڈا اور میکسیکو کی میزبانی میں چل رہے فیفا عالمی کپ کے کئی مقابلے شدید گرمی میں کھیلے جا رہے ہیں۔ کچھ میچوں میں کھلاڑیوں اور مداحوں کو ہیٹ ویو کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

گرمی، تصویر آئی اے این ایسگرمی، تصویر آئی اے این ایس

i

صارف
google_preferred_badge

یورپ میں ہیٹ ویو کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ مقامی انتظامیہ کو عوام کی جان بچانے کے لیے خصوصی انتظامات کرنے پڑ رہے ہیں۔ ’نیشنل ویدر سروس‘ (این ڈبلیو ایس) کے مطابق ملک کے وسطی اور مشرقی حصوں میں درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس سے اوپر پہنچ سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ امریکہ میں اس وقت 6 کروڑ سے زیادہ افراد ہیٹ الرٹ کے دائرے میں ہیں۔ محکمہ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں کئی شہروں میں گرمی سے متعلق برسوں پرانے ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یوم آزادی (4 جولائی) کی تعطیلات تک شدید گرمی جاری رہنے کے امکانات ہیں۔

شکاگو انتظامیہ نے مشکل حالات کے مدنظر پورے شہر میں کلنگ مراکز کھول دیے ہیں۔ اس کے علاوہ بزرگوں اور بیمار افراد کی خیریت دریافت کرنے کے لیے سرکاری ملازمین کی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی نے گرمی سے نجات دلانے کے لیے خصوصی منصوبہ بنایا ہے۔ مفت پینے کا پانی فراہم کرانے کے لیے موبائل وین چلائی جا رہی ہے اور شہر میں عارضی طور پر ’کولنگ اسٹیشن‘ بنائے گئے ہیں، تاکہ عوام کو کچھ دیر کے لیے راحت محسوس ہو سکے۔

صحت سے متعلق ایجنسیوں نے عوام کو دھوپ میں کم نکلنے، پانی پینے اور ہیٹ اسٹروک پر نظر رکھنے کی اپیل کی ہے۔ افسران نے بچوں کو بند کاروں میں چھوڑنے کے لیے بھی منع کیا ہے۔ امریکہ میں اس سال اب تک کاروں میں پھنسنے کی وجہ سے 9 بچوں کی موت ہو چکی ہے۔ شدید گرمی کا اثر کھیلوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ امریکہ، کناڈا اور میکسیکو کی میزبانی میں چل رہے فیفا عالمی کپ کے کئی مقابلے شدید گرمی میں کھیلے جا رہے ہیں۔ کچھ میچوں میں کھلاڑیوں اور مداحوں کو ہیٹ ویو کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایک مقابلہ شدید گرمی کی وجہ سے 2 گھنٹے کے لیے روکنا بھی پڑا تھا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آنے والے کچھ دن امریکہ کے لیے مشکل ترین ثابت ہوسکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *