مصنوعی سورج بننے کا راستہ ہموار، چین نے بنا لیا دنیا کا سب سے بڑا میگنیٹ

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت مستقبل میں صاف اور مسلسل توانائی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔



<div class="پیراگراف">
<p>تصویر ‘X’ <a href="https://x.com/ChinaScience">@ChinaScience</a></p>
</div>
<p>” class=”qt-image”/><img decoding=
صارف
google_preferred_badge

چین نے ’نیوکلیئر فیوژن ٹیکنالوجی‘ میں ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ملک کے سائنسدانوں نے ’آرٹیفیشل سن‘ یعنی مصنوعی سورج کے لیے دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ میگنیٹ تیار کیا ہے۔ اس کا کامیاب تجربہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے مستقبل میں فیوژن توانائی کی ترقی میں مدد ملے گی۔

قابل ذکر ہے کہ مصنوعی سورج ایک ایسی مشین ہے جس میں سورج کی طرح توانائی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں نہایت گرم گیس یعنی پلازما تیار کیا جاتا ہے۔ پھر اسے قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ توانائی پیدا کی جا سکے۔ اسی ٹیکنالوجی کو نیوکلیئر فیوژن کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں اس کے ذریعہ بڑی مقدار میں صاف ستھری توانائی پیدا کی جا سکے گی۔

چین نے اس مشین کے لیے دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ میگنیٹ تیار کیا ہے۔ اس کا وزن 582 ٹن ہے۔ اس کی لمبائی 21 میٹر، چوڑائی 12 میٹر اور اونچائی 3.3 میٹر ہے۔ اس میگنیٹ کا کام مشین کے اندر موجود انتہائی گرم پلازما کو ایک ہی جگہ پر برقرار رکھنا ہے تاکہ وہ مشین کی دیواروں سے نہ ٹکرائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو توانائی پیدا کرنے کا عمل رک سکتا ہے۔ یہ میگنیٹ بین الاقوامی فیوژن منصوبہ ’آئی ٹی ای آر‘ میں استعمال ہونے والے اسی نوعیت کے میگنیٹ سے تقریباً 1.3 گنا بڑا ہے۔ اس میں 3 گنا زیادہ توانائی کا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ آئندہ ایسے 16 میگنیٹس ایک ساتھ نصب کیے جائیں گے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق سائنسدانوں نے ایک خصوصی سپر کنڈکٹنگ کوائل بھی تیار کی ہے۔ اس کا کام فیوژن کے عمل کو شروع کرنا اور پورے وقت پلازما کو درست مقام پر برقرار رکھنا ہے۔ تجربہ کے دوران اس کوائل نے 60 کلو ایمپیئر کرنٹ اور 6.03 میگا جول توانائی سنبھالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے ریکٹر کو طویل عرصہ تک چلانے میں مدد ملے گی۔

سائنس دانوں کے مطابق ان دونوں آلات کے تمام ضروری حصے چین میں ہی تیار کیے گئے ہیں۔ اس سے اس ٹیکنالوجی کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار کم ہو گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت مستقبل میں صاف اور مسلسل توانائی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


]

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *