کانگریس ایم پی مراری لال نے حادثہ کے متعلق کہا کہ ’’مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے مقصد سے حکومت کو دہلی-ممبئی ایکسپریس وے پر ہونے والے حادثات کی وجوہات کا مطالعہ کرنے کے لیے کمیٹی بنانی چاہیے۔‘‘
راجستھان کے دوسا ضلع میں دہلی-ممبئی ایکسپریس وے پر ٹرک اور بس کے درمیان شدید ٹکر کے بعد بس میں آگ لگ گئی، جس کے سبب کم از کم 8 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس حادثے میں 20 سے زائد مسافر زخمی ہو گئے ہیں، جنہیں علاج کے لیے دوسا ضلع اسپتال بھیجا دیا گیا ہے۔ افسران نے بتایا کہ دیر رات تقریباً 2:30 بجے دوسا ضلع کے کولوا تھانہ حلقہ میں دہلی-ممبئی ایکسپریس وے پر ایک بس اور ٹرک میں زبردست تصام ہوا تھا۔ ٹکر اس قدر شدید تھی کہ حادثے کے فوراً بعد دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی، جس سے موقع پر افراتفری مچ گئی۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئی۔ رپورٹس کے مطابق ٹورسٹ بس ہریدوار سے اندور جا رہی تھی، جس میں تقریباً 37 زائرین سوار تھے۔ جیسے ہی بس میں آگ لگی زیادہ تر مسافر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، لیکن کچھ لوگ اندر ہی پھنس گئے، جس کے سبب 8 لوگ جاں بحق ہو گئے۔ اس حادثے میں 20 سے زائد لوگ زخمی ہو گئے ہیں اور 4 مکمل طور سے محفوظ ہیں۔
ایس پی پیوش دیکشت نے ’آئی اے این ایس‘ کو بتایا کہ حادثہ کا شکار بس ہنس ٹریولس اندور کی سلیپر بس تھی، جبکہ ٹرک بالکل خالی تھا۔ دونوں گاڑیاں سڑک کے سیدھے حصے پر چل رہی تھی۔ ایسا اندیشہ ہے کہ کسی دوسری گاڑی کے اوورٹیک کرنے کی صورت میں یہ دونوں گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ ساتھ ہی انہوں بتایا کہ 6 لوگوں کی موت جھلسنے کی وجہ سے ہوئی، جبکہ دیگر 2 کی موت سر میں چوٹ لگنے سے ہوئی۔ بقیہ زخمی لوگوں کی حالت مستحکم ہے۔
دہلی-ممبئی ایکسپریس وے پر حادثے کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مراری لال مینا جائے وقوع پر پہنچے۔ انہوں نے ’آئی اے این ایس‘ سے کہا کہ ’’میں ایشور سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کی روحوں کو سکون عطا کرے، جنہوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں اور ان کے اہل خانہ کو صبر و ہمت دے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں ںے کہا کہ ’’اب تک ملی اطلاع کے مطابق 8 لوگوں کی موت ہو گئی ہے، کئی زخمی ہوئے ہیں اور کئی لوگوں کا دوسا ضلع اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے حکومت کو دہلی-ممبئی ایکسپریس وے پر ہونے والے حادثات کی وجوہات کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانی چاہیے۔‘‘
